یہ تو قبول کر مجھے میری کمزوریوں کے ساتھ
یہ پھر چھوڑ دے مجھے میری تنہائی کے ساتھ




نظر اندازِ کا بڑا شوق تھا انکو
ہنے بھی ٹھوف میں انکو اُنہی کا شوق دے دیا.




ملکر بھی اُنسے حسرت اے ملاقات رھ گئی
بادل تو گھر آئے تھے بس برسات رھ گئی




اب میں تھک گئی ہو
ہوا سے کہہ دو مجھے بوجھ دے




سکون کی تلاش میں نکلے تھے ہم
درد بولا اوقات بھول بیٹھے ہوں کیا




میری اداسی مجھ سے روز ملنے آتی ہے
مسکرا کر ہر بار اسے رخصت کر دینا ہوں




پھر سے ایک امید پال بیٹھے ہوں
پھر سے تیرے پتے پر خت ڈال بیٹھے ہوں




جب میں ڈوبا تو سمندر کو بھی حیرت ہوئی
عجیب شخص ہیں کسی کو پکارتا بھی نہی




کیا کیا نہیں کیا میں نے تیری مسکان کے لیے 
پھر بھی اکیلا چھوڑ دیا اسے انجام کے لیے




ایک امید ملی تھی تمہارے آنے سے اب وہ بھی ٹوٹ گئی 
وفاداری کی عادت تھی اب شاید وہ بھی چھوٹ گئی