سخت پہرے ہیں مل کسی صورت
تا کہ بہلے یہ دل کسی صورت
اسد رضوی




ہوتی ہیں محبت میں بھی کچھ راز کی باتیں
ایسے ہی تو اس کھیل میں ہارا نہیں جاتا
کرن




تاروں کو انسان تب گھورتا ہے
جب زمین پہ اس کا کچھ کھوگیا ہو




سر جھکانے سے نمازیں ادا نہیں ہوتی
دل جھکانا پڑتا ہے عبادت کے لیے




محبت سچ ہے صاحب
بس لوگ جھوٹے ہوتے ہیں




زندگی کا یہ اصول بنالو
جو چھوڑدے اسے بھلادو




ہماری ذات آدھی رہ گئی ہے
کسی کا کھیل پورا ہوگیا ہے




مظبوط لوگ خاموش رہتے ہیں
کسی سے شکایت نہیں کرتے --!




لوگوں سے ڈرنا چھوڑدو
عزت الله پاک دیتا ہے لوگ نہیں




تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ
تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی




نرم دل سے پتھر دل بننے کا سفر
یقین مانیں آسان نہیں ہوتا





میں نے کی ہے ایک زندگی دفن مٹی میں
 نہیں دل کے ایک اندھیر کونے میں




محبت جھوٹی نہیں تم سے
گواہ ہے ہر نماز کی دعا --!




ہر بات خاموشی سے مان لینا !
یہ بھی اک انداز ہے ناراضگی کا




آج لگتا ہے بس تماشا تھا
وہ تعلق جو بے تحاشہ تھا




جیسے تیسے گزرنے والی کو
عمر کہتے ہیں زندگی نہیں




درد تو وہ ہے کہ
جس میں آپ رونہ پائیں




آہ دل سے میرے تب نکلی
زہر اپنوں کا جب سہا نہ گیا





تیرا ہر انداز اچھا ہے
سوائے نظر آنداز کرنے کے




میرے درد کی تھی وہ داستان
جسے تم ہنسی میں اڑا گئے




نہ رویا تھا ان کے بچھڑنے پر میں
مگر ہاں زندگی میں پھر ہنسا نہیں





جن کی تھی طلب
ان سے رہی دوریاں بہت