علامہ اقبال نے قومی شاعری کے علاوہ طلبہ کے لیے بھی شاعری کی ہے ہے اور انشاء آریو میں ہمیں بہت موٹیویشن دکھائی دیتا ہے ہے ہے کسی نے خوب کہا ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری ا یا کسی بھی زمانے میں میں کسی کو بھی متاثر کر سکتی ہیں اور یہ بات بالکل ظاہر ہے۔

انہوں نے مسلمانوں کے حالات پر شاعری لکھی تھی اور آج ہم دیکھ سکتے ہیں ہیں قوم مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا پر کھڑی ہوئی ہے اگر ہم اس وقت ہی سمجھ جاتے تو آج یہ دن نہ آتے۔

ابھی سلامت کا بیڑہ صرف اس امت کی نوجوان نسل ہی پار کر سکتی ہے لیکن آج لڑائی تلواروں سے نہیں دماغ سے ہوتی ہے تو اس لیے ہمیں خوب محنت کرنی ہے ہے اور محنت کے لئے بھی ہمیں علامہ اقبال کی شاعری مدد کریں گی۔


علامہ اقبال کا ایک بہت مشہور شعر ہے ہے کہ مٹا دے اپنی ہستی کو کو اگر کچھ مرتبہ چاہے ہے کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے۔شارجہ میں جتنا موٹیویشن ملتا ہے وہ شاید ہی کہوں گا کوئی موٹیویشنل سپیکر امید دے سکتا ہے ہے۔

آج کا پاکستانی موٹیویشنل سپیکر اماں سے فی بھی علامہ اقبال کی تعریف کرتا ہے اور انہیں سے متاثر ہے ہے۔


20+ allama iqbal poetry in urdu for students




اقبالؔ! یہاں نام نہ لے علمِ خودی کا

موزُوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات



ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب

کہ سِکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق




سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا

لیا جائے گا تُجھ سے کام دُنیا کی امامت کا



ترے علم و محبّت کی نہیں ہے انتہا کوئی

نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نَوا کوئی





اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی

ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد




جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نا زن

کہتے ہيں اسی علم کو ارباب نظر موت




اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم

ایک سازش ہے فقط دین و مُروّت کے خلاف




افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارا




اُس جُنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کِیا

جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش




نہيں تيرا نشيمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہيں ہے ، بسيرا کر پہاڑوں کی چٹانوں ميں