death poetry in urdu

 



پتہ نہیں کونسا زہر ملایا ہے تم نے محبت میں

نا زندگی اچھی لگتی ہے اور نہ موت آتی ہے




حد تو یہ ہے کہ موت بھی تکتی ہے دور سے

اس کو بھی انتظار میری خود خوشی کا ہے




عشق سے بچیں صاحب

سنا ہے یہ دھیمی موت ہے




بے موت مر جاتے ہیں

بے آواز رونے والے




کون کہتا ہے موت آئی تو مر جاؤں گا

میں تو ندی ہو سمندر میں اتر جاؤں گا




اپنی موت بھی کیا موت ہوگی

ایک دن یوں ہی مر جائیں گے تم پہ مرتے مرتے




شکایت موت سے نہیں اپنوں سے تھی مجھے

ذرا سی آنکھ بند کیا ہوئی وہ قبر کھود نے لگے




نہ جانے میری موت کیسی ہوگی

لیکن تیری بے وفائی سے بہتر ہوگی




ایک مرد نے کیا خوب کہا ہے 

یہ جو میری موت پر رو رہے ہیں

ابھی اٹھ جاؤں تو جینے نہیں دینگے




سنا ہے موت ایک پل کی بھی مہلت نہیں دیتی

میں مر جاؤں تو مجھے معاف کر دینا




موت سے تو دنیا مرتی ہے 

عشق تو پیار سے مر جاتا ہے




یہ عشق بنانے والے کی قابلیت کی تعریف کرتا ہو

موت بھی ہوجاتی ہے اور قاتل بھی پکڑا نہیں جاتا





کیسی کہنا بالے نے کیا خوب کہا ہے کی

میری زندگی اتنی پیاری نہیں کی میں موت سے درو




قید ہیں کچھ خواب ان کھلی آنکھوں میں

نہ جانے کب جاگتی راتوں کا سویرا ہو جائے




نفرت کرنے کی دوا بتا دو یارو

ورنہ میری موت کی وجہ میرا پیار ہوگا


Post a comment

0 Comments