کیوں منتیں مانگتا ہے اوروں کے در سے

وہ کون سا کام ہے جو ہوتا نہیں تیرے پروردگار سے




ایک مدت کے بعد ہم نے یہ جانا اے خدا

عشق تیری ذات سے سچا باقی سب افسانے 





تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ

ہیں آج وہ مائل بہ عطا اور بھی کچھ مانگ

کیا کچھ نہیں دے سکتی کیا کچھ دے سکتے ہیں

بحث نہ کر اور بھی کچھ مانگ



دل میں خدا کا ہونا لازم ہے اقبال

سجدوں میں پڑے رہنے سے جنت نہیں ملتی



ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے

تیرے آگے آسماں اور بھی ہے





سجدوں سے تیرے کیا ہوا صدیاں گزر گئیں

دنیا تیری بدل دے وہ سجدہ تلاش کر




گرتے ہیں سجدوں میں ہم اپنی ہی حسرتوں کی خاطر

اگر گرتے صرف عشق اے خدا میں تو کوئی حسرت باقی نہ رہتی





مٹ جائے گناہوں کا تصور ہی جہاں سے

اگر ہو جائے یقین کی خدا دیکھ رہا ہے




ہنسی آتی ہے مجھے حضرت اے انسان پر

گناہ کرتا ہے خود لعنت بھیجتا ہے شیطان پر



اللہ کو بھول گئے ہیں لوگ فکر ار روزی میں

تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال ہی نہیں




کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں




توڑ دی تسبیح اس خیال میں فراز

کیا گن گن کے نام لینا اس کا جو بے حساب دیتا ہے


Post a Comment

Please do not spam

Previous Post Next Post