پیارے دوستو اگر آپ اس رباعی کا مطلب جاننا چاہتے ہیں تو اس آرٹیکل کو پورا پڑھی


شاید یہ ہے بات آپ کو پتہ ہو. جب شیخ سعدی نے نے اس روایت کو لکھنا شروع کیا تو انہوں نے چار مصرعے نہیں لکھے تھے انہوں نے صرف تین ہی مصری لکھے

چوتھا مصرع لکھنے میں انہیں پریشانی ہو رہی تھی اور اسی ماحول میں انہیں نیند آگئی گی جب وہ سو گئے تو ان کے خواب میں محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تشریف لائے۔اور فرمایا سعدی کچھ پریشان دیکھتے ہو۔سعدی نے کہا حضور مجھے نہیں معلوم کہ اس رباعی کا چوتھا مصرع ذرا کیسے لکھوں۔حضور نے فرمایا سعدی اس رباعی کو ایک بار میرے لئے پڑھو۔سعدی نے تین میں سے پڑھے۔

ba-la-ghal ula-be kamalehi

ka-sha-fadojabe  jamalehi

hasonat jamiao khisalehi

یہ تین مصرے پڑھنے کے بعد سعدی جب رک گئے تو حضور نے فرمایا سعدی کہ کیوں نہیں دیتے تے 

sallualaihe waalehi


  

Post a Comment

Please do not spam

Previous Post Next Post