200+ urdu shayari mohabbat | breakup shayari urdu

 urdu shayari mohabbat | breakup shayari urdu



200+ urdu shayari mohabbat | breakup shayari urdu




قطرہ قطرہ میری حلق کو تر کرتا ہے
میری رگ رگ میں تیرا عشق سفر کرتا ہے




اظہار اے عشق کروں یا پوچھ لو طبیعت ان کی
اے دل کوئی تو بہانہ بتا ان سے بات کرنے کا





کچھ تمہاری نگاہوں کا قصور تھا
اور کچھ مجھے بھی برباد ہونا تھا






پتا تو تھا عشق میں نقصان ہوگا
پر سارا میرا ہی ہوگا یہ معلوم نہ تھا




عشق میں وفا کی خواہش کرتا ہر دل
اور عشق میں کیا ملے کہنا مشکل ہے




کوئی تعلق تو رکھا نہیں انہوں نے لیکن
نہ جانے کیوں اب بھی کوئی رابطہ سا باقی ہے





ٹھکرائے جانے سے زیادہ اذیت اور کوئی نہیں ہوتی
انسان ساری زندگی چاہ کر بھی کسی اور کو قبول نہیں کر پاتا




کیون نہ پھر بے فکر ہو کر سویا جائے
اب بچا ہی کیا ہے جسے کھویا جائے




تجھ سے بچھڑ کر بس اتنا سا فرق پڑا
تیرا گیا کچھ نہیں اور میرا رہا کچھ نہیں



دل کہتا ہے بھول جا خاک ڈال اس پر
عشق کہتا ہے ایسا سوچنا بھی تو لعنت ہے تجھ پر



میری نظر تیرا دیدار چاہتی ہے
ایک بار نہیں بار بار چاہتی ہے



ایک عجیب سی بے تابی رہتی ہے تیرے بنا
رہ بھی لیتے ہیں اور رہا بھی نہیں جاتا




تجھے بھولنا اب میرے بس میں نہیں
میرے روم روم میں بس چکے ہو تم




جاگتا رہا میں رات بھر
جو سکون تیری یاد میں وہ نیند میں کہاں





ہو مکمل ہر داستاں یہ تو ممکن نہیں
کچھ کسی ادھوری ہیں لاجواب لگتے ہیں






تمہیں یاد کیے ایک عرصہ ہوگیا
شاید تمہیں میں کبھی بھلا ہی نہیں پایا




کریں گے تا عمر انتظار کمہاراں
اگر تیرے آنے کا اشارہ جو میلے



عشق کی بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
ابھی کچا دل کا مکان ہے کچھ تو خیال کر




پیٹ میں گیا زہر صرف ایک بار ہی مرتا ہے
مگر دل میں اترا عشق ہر روز مارتا ہے



کچھ لوگ خوشبو کی طرح ہوتے ہیں
جو روز دکھائی تو نہی دیتے ہیں
لیک محسوس ہوتے ہیں




عشق کو اتنا نازک نہ سمجھ یہ تو وہ زہر ہے
اگر ایک بار لگ جائے تو جان لے کر ہی مانتا ہے




ایک عادت سی بن گئی ہے تمہاری
اور عادت کبھی جاتی نہیں




تجھے چاہنے سے لے کر عشق کرنے تک
صرف تجھے چاہا تجھ سے کچھ نہیں چاہا





ایک نیند ہے جو رات بھر نہیں آتی
ایک نصیب ہے جو کب سے سو رہا ہے



وہ قریب تو بہت ہیں مگر دوریوں کے ساتھ
اور ہم جی رہے ہیں اپنی مجبوریوں کے ساتھ




ایک تم ہو جو کبھی ساتھ نہی ہوتے
ایک تیری یاد ہے ہے جو کبھی ساتھ نہی چھوڑتی




کتنی قاتل ہے یہ آرزو زندگی کی
مر جاتے ہے کسی پر لوگ جینے کے لیے




سسکیاں لیتا ہے وجود میرا غالب
نوچ نوچ کر کھا گئی تیری یاد مجھے




عشق پر زور ہے یہ وہ آتش غالب
کی لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے



عشق کا ہونا بھی لازمی ہے شاعری کے لئے
قلم لکھی تو دفتر کا بابو بھی غالب ہوتا



یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو



دل-ے-ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے




عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزر جانا ہے دوا ہو جانا




میں ہو دل ہے تنہائی ہے
تم بھی ہوتے تو اچھا ہوتا




کتنا دشوار ہے جذبوں کی تجارت کرنا
ایک ہی شخص سے دو بار محبت کرنا





رکھ تو دیا ہے قدم عشق کی دنیا میں
اب خدا جانے اس سفر کا انجام کیا ہوگا





جب سامنے یار بیٹھا ہوں تو
بازیاں ہارنے کا مجھ کچھ اور ہوتا ہے




مکمل ہو نہیں باتیں کبھی تعلیم عشق کی
یہاں استاد بھی تمام عمر شاگرد ہوتا ہے



عشق کا روگ لگا ہے کئی برسوں سے مجھے
کس لئے مجھ کو پھر یہ دنیا دبا دیتی ہے




نیند بھی نیلام ہو جاتی ہے عشق کے بازار میں
کسی کو بھول کر سو جانا آسان نہیں ہوتا




ان کی یادوں سے عشق میں بے شمار کرتا رہا
وہ کبھی لوٹ کر نہ آئے اور میں انتظار کرتا رہا




ڈھونڈ کتابیں عشق سے کوئی فتوی قاضی
جو چھوڑ جائیں اس کی یادوں میں کیسے کیا جائے






دیکھا کتاب اے عشق کے ابرق کھول کر
اول بھی تیرا نام ہے آخر بھی تیرا نام ہے





اُلجھتی زندگی سے موت آجائے تو بہتر ہے
ہم سے یوں ارمانوں کا تماشا نہیں دیکھا جاتا





اس رات کی خاموشی میں بھی مجھے نیند نہیں آتی
پتا نہیں یہ کون سی بے چینی ہے جو مجھے سونے نہیں دیتی






بات عشق میں وفا کی ہوتی تو میں کبھی نہیں ہارتا
بات نصیب کی تھی میں کچھ نہ کر سکا





پلکوں پہ روکا ہے سمندر خمار کا
کتنا عذاب نشا ہے تیرے عشق میں انتظار ہے




تم کیا جانو حال ہمارا 
ایک تو تنہائی اور اوپر سے خیال تمہارا




بہت آسان ہوتا ہے محبت میں مرنا
مشکل ہے زندہ رہ کر تا عمر تڑپنا




کتاب اے عشق لکھنے کی مجھے فرصت نہیں
ابھی تک بے وفائی پہ میری تحكيف جاری ہے




پہلی نظر بھی آپ کی اف کس بلا کی تھی
ہم آج تک وہ چوٹ دل پر لیے ہوئے ہیں





یہ تیرے خیال کا ہی جادو ہے
کی بے خیال ہو گئے ہم زمانے سے



تمہیں یاد نہ کرو تب بھی یاد آتے ہو
تم جا کر بھی مجھ میں تھوڑی سی رہ جاتے ہو




محبت جب جب بھی ہو گی یاد رکھنا
تم سے ہو گی بار بار ہوگی صرف تم سے ہوگی



عذاب تماس اے زندگی بن گئی ہے غالب
بھولنے کی عادت نہی اور تڑپنا ہم چاہتے نہی




کیوں دوریاں صحیح نہ جائیں
تم بن دل کہیں چین نہ پائے





تگالوگ سے فرصت ملے تو چلے آنا
ہم تیار بیٹھے ہیں آنکھوں میں سمندر لیے




اب تم ہی آکر تھام لو مرشد
سب نے چھوڑ دیا ہے تمہارا سمجھ کر




ان کے عشق میں کچھ اس طرح قربان ہو رہے ہے
پہلے بھی حالت تھے اب بذان ہو رہے ہے





ماتھے پہ لکیر بنادےگا پرہیز تو کرو یارو
عشق اگر سچا ہے دیدار اے یار کا فقیر بنانا دیگا




عشق وہ مرض ہے جس کی کوئی دوا نہیں ہوتی
موت تو ہوتی ہے پر مرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی




تو ملے یا نہ ملے یہ میرے مقدر کی بات ہے
لیکن سکون بہت ملتا ہے تجھے اپنا سوچ کر




سنا ہے سانس رک جانے پر
بچھڑنے والے بھی ملنے آتے ہے






لوگوں کی اتنی قدر بھی نہ کروں
تمہیں مطلبی سمجھ نے لگے






پہلے لوگ مرتے تھے آتما بھٹکتی تھی
اب اتما مر چکی ہے لوگ بھٹک رہے ہے





اس عشق میں علاج کا اشرا نہیں کوئی
میں نے مبتلا اس مرض میں طبیبوں کو دیکھا ہے




کتاب اے عشق کا کوئی صفحہ خالی نہیں ہوتا
نگاہیں بو بھی پڑھ لیتی ہیں جو لکھا نہیں ہوتا




بے بس کر دیتا ہے قانون اے عشق ورنہ 
میں تمہیں اتنا چاہوں کہ انتہا کر دو




عشق والوں کا حال نہ پوچھو درویش
خوشبو دکھتی ہے انہیں رنگ سنائی دیتا ہے





طبیب یوں نہ کوشش کر تجھے کیا خبر میرے مرض کی
تو عشق کر پھر چوٹ کھا پھر لکھ دوا میرے درد کی





مریضان اے محبت کو فقط دیدار اے یار کافی ہے
ہزاروں طب کے نسخوں سے دیدار اے یار کافی ہے





سمندر اے عشق کی گہرائی کو نا ناپ
تصور میں یار کو رکھ اور ڈوبتا جا




طلب ایسی کی سانسوں میں سما لو تجھے اور
قسمت ایسی کی دیدار کا محتاج ہو




روح تک نیلام ہو جاتی ہے بازار اے عشق میں
اتنا آسان نہیں ہوتا کسی کو اپنا بنا لینا




اٹھتی ہی نہیں نگاہ کسی اور کی طرف
یار کے دیدار نے مجھے اتنا پابند کر دیا




دیدار اے یار کے لیے آنکھوں کی ضرورت نہیں 
عشق اگر سچا ہو تو روبرو ہر وقت یار ہوتا ہے





ایک لمحے کے کھاتا پر چسم اے سب دیدار کے
روۓ جانا روۓ جانا روۓ جانا عشق ہے




دیکھ ساقی عشق کیسا باسط ہے وجود میں
سلطنت میری ہے رگ رگ میں حکومت یار کی





گیلی لکڑی سا عشق تم نے سلگایا ہے
نہ پورا جل پایا نہ کبھی بج پایا




داستانیں عشق کے بھی عجیب فسانے ہے
یہ تیر بھی چلانے ہے اور پرندے بھی بچانے ہیں





طلب ہی رہ جاتی ہے منافع بن کے 
عشق کے سودے میں نقصان بہت ہے





فقط مرض ہوتا تو دباؤ سے ٹھیک ہو جاتا
کمبخت وہ عشق تھا حکیم بھی مُکر گیا






عشق کیا زندگی دے گا کسی کو
یہ تو شروع ہی کسی پر مرنے سے ہوتا ہے




تم نا کچھ بھی نہیں تیرے دیدار کے بنا
زندگی ادھوری ہے میری یار کے بنا




سلسلہ اے عشق میں صاحب
ہم مرید اپنے یار کے ہیں





مکمل عشق کی طلبگار نہیں ہے آنکھیں
تھوڑا تھوڑا ہی سہی روز تیرے دیدار کی چاہت ہے





احساس اے عشق کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے
ہم تیرے بغیر بھی تیرے رہتے ہیں




کس یہ بیا حال اے دل کی تبھا کا
سمجھے وہی جو زخمی ہو تیری نگاہ کا




میری مصروفیت کے ہر لمحے میں شامل ہیں تیری یادیں
تو سوچو میری فرصتوں کا عالم کیا ہو گا




وہ جو قسمت میں لکھے نہیں ہوتے
انہیں کی جستجو کو عشق کہتے ہیں 




عشق کی سرد ہوا روح پر کیا لگی 
دل کا بخار خم کہا  بڑھتا گیا



یہ وہ عشق ہے جناب جو ہر کسی کو نہیں ہوتا
جیسے ہو جائے وہ اپنے یار کے صبح کسی کا نہیں ہوتا




نہ پوچھیے ہے دشوار کتنی یہ عشق کی نوکری
تبادلہ دل نہیں چاہتا ترقی یار نہیں دیتا




عشق پر زور نہیں یہ وہ آتش غالب
لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے



الٹی ہی چال چلتے ہے دیبانگانے عشق
آنکھوں کو بند کرتے ہے دیدار کے لیے





عشق کا قانون الگ ہے
اس کی عدالت میں وفادار سجا پاتے ہے




رک جاتی ہے نظر ایک حد کے بعد
دل کرتا ہے جہاں تم ہو بس وہاں تک دیکھوں




مکتب اے عشق سے کوئی وكف نہی غالب
پا لینا ہی عشق نہی فنا ہوجانا بھی عشق ہے





اپنے محبوب کا عشق ایسا جلا اپنے سینے میں
کیا خیال اے غیر بھی آئے تو راز ہو جائے





نگاہوں کی بھی ضرورت کہاں تمہارے دیدار کے لئے
تمہیں دل سے سوچنا بھی اتنا ہی سکون دیتا ہے




کتاب اے عشق پڑھ کر تو دیکھو کیا امانت ہے
فسانہ حسن کا جا کر کسی دلدار سے پوچھو 






مجھے رہے گا انتظار تمام عمر تیرا
عشق مجھے تُجھے سے ہی نہی تیرے ہونے سے بھی ہے




طبیب اے دل بتا آخر ے ماجرہ کیا ہے
دل تو سینے میں ہے پر ٹوٹ کے بکھرا کیا ہے





عشرت اے قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزر جانا ہے دوا ہو جانا



محبت میں محبوب کی کرب شرط نہیں ہے
فاصلہ بھی عشق کی شدت کو بڑھا دیتا ہے





تمنا اے عشق بس اتنی رکھتے ہے ہم
جیتوں تو تجھے پاؤں ہاروں تو تیرے ہو جائیں



جاگنا بھی قبول ہے تیری یادوں میں رات بھر
تیرے احساس میں جو سکون ہے وہ نیند میں کہاں




تیرے دیدار کے لمحے بہت قیمتی تھے
اگر ہم آج جھپکتے تو خسارہ کرتے




اب کوئی خواب نیا اترتا ہی نہیں دل میں
بہت ہی سخت لگا ہے پہرا تمہاری چاہت کا




کن لفظوں میں لکھوں میں اپنے انتظار کو
بے زبان سا عشق تمہیں خاموشی سے ڈھونڈتا ہے




ہر مرض کا علاج ممکن ہے
مگر یہ مرض اے عشق کا کیا کریں




مریض اے عشق سے جب پوچھا طبیعت کیسی ہے
تو دھیمی آواز سے بولا زہر پی لیا کرو





جس شخص کی غلطی غلطی نہ لگے 
کتاب عشق میں اسے محبوب کہتے ہیں




محبت کی ریاست میں بے فکری ہے عشق
تباہ ہو کر بھی جھومو ایسی فقیری ہے عشق






خود کو کسی کی امانت سمجھ کر 
ہر لمحہ وفا دار رہنا ہی عشق ہے





حالت اے عشق کے سبب حالت اے زندگی ہو گئی ہے
شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی چلی گئی ہے





وہ عشق ہی کیا غالب
جسمیں یار درد نہ دے





نہ زخم بھر سکے نہ دبا صحرا ہوئی
نہ تجھے بھول سکا نہ محبت دوبارہ ہوئی






جیسکا دیدار بھی نہی لکھا ہوتا مقدّر میں 
یونس محبّت قسم سے کمال کی ہوتی ہے





میں اس قدر توجہ میں کھو گیا ہو
خود سے پہلے تیرا ہو گیا ہو




دل کش ہے یہ عشق کی وادیاں 
نہ گرنا چاہتے نہ بھر آنا




یار پر الزام لگاؤ بھی تو کیسے اُسکی
یاد میں تو رونا بھی سکون دیتا ہے




گر عشق سے ہے ملا پھر درد سے گیا گلا
اس درد میں زندگی خوشحال ہے




عشق جس طرف اپنی نگھا کر گیا
مریض ہو یا طبیب سب کو طبھا کر گیا




کچھ نظر آتا نہی اُسکی تصبّر کے صبح
حسرتِ دیدار نے آخوں کو اندھا کر دیا ہے




اپنے کردار پر ڈال کے پردہ 
ہر کوئی کہ رہا ہے زمانہ خراب ہے



ذرا سا عشق کا بھی اسمِ دخل ہوتا ہے
کوئی حسین مکمل حسین نہی ہوتا ہے



مریضِ اے عشق ہے تو دبئی دل سمجھ دلبر کو
پھر مرض جانے دوا جانے صفحہ جانے اور خدا جانے



جیسے دھاگہ ہو کوئی تصبی میں 
میرے ساصو سے درمیاں ویسے ہو تم
 




سارے تعویذ گلے میں ڈال کے دیکھ لیے
آرام تو بس تیرے ہی دیدار سے ملا



قیامت میں تیرے داغ اے محبّت لیکر ایسے اٹھنگے 
کی اُن داگو میں تیری چاہت کے دیے اس وقت بھی جل رہے ہونگے




کیا لکھو میرے عشق کی حقیقت آرزو بیہوش ہے
خط پے آسو بھ رہے ہے اور کلام خاموش ہے



تیرے عشق کے میں کابل تو نہی پر دل چاہتا ہے
کی آخری سانس تک تیرا انتظار کرو



عشق حقیقی ہوتا ہے جسم کی پیاس نہی ہوتا
ہوا کا رنگ نہی ہوتا روح کی جات ہوتا ہے




مانا کی تیری دید کے قابل نہیں ہو میں 
تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ



یہ عشق اے محبّت کی روایت بھی عجیب ہے
پایا نہی ہے جسکو اسے کھونا بھی نہی چاہتے 




تا عمر بس ایک یہی سبک یاد رکھیے
عشق اور عبادت میں نیت صاف رکھیے




میں عشق کی رہا میں ایک مفلس سا فقیر ہو
کوئی ہے جو مجھے بھیک میں میرا یار دیلا دے




اس مرض کا علاج نہ ممکن ہوتا ہے 
جیسکا درد یار اؤ ہوا دیدار اے یار ہو




عشق میں ایسی کرامت نہی دیکھی ہمنے 
کی روح با روح یار ہو اور ہوش میں دیوانہ رہے




طلب میں شمار اس کدر دیدار تیرا
سو بار بھی مل جائے ادھورا لگتا ہے




نگھے اے عشق کا عجیب ہی شوق دیکھا 
یار ہی کو دیکھا اور بےپناہ دیکھا




محبّت صبر کے علاوہ اور کچھ نہی
مینے ہر عشق کو انتظار کرتے دیکھا




مثال اے آتش ہے یہ روگ اے عشق 
روشن تو کرتی ہے مگر جلا جلا کر




تُجھے سے بچھڑو تو تیری ذات کا حصہ ہو جاؤ
جس سے مرتا ہو اشی زہر سے اچھا ہو جاؤ




حسرت اے یار ہے جیسے دل سے مٹا بھی نہ سکو
ڈھونڈھنے اسے کو چلا ہو جیسے کبھی پا بھی نہ سکا




ہمنے تو تمام زندگی ہی یار کے نام کردی 
اب ہے عشق کیسے کہتے ہے ہمیں معلوم نہیں



عشق کا تو پتہ نہیں پر جو
تجھ سے ہے وہ کسی اور سے نہی




وہ میل جائے مجھے تو یہ سمجھنگا غالب
جنت کا اعلان ہو کیسی گنہگار کے لیے




پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے
پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت



ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا



زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔ
وگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے ہیں
۔


یوں کیجئے چُھوڑ دیجئے عالمِ غم کو میرے
بد دعائیں دیجئے دغا کیجئے ہمیں مرنے دیجئے




یہ عشق کا جُوا ہم بھی کھیل چکے ہیں
رانی کسی اور کی ہوئی اور جُوکر ہم بن گئے




احساس و مُروت کے ہاتھوں رُوندے ہوے ہم
کچھ کہ بھی پاۓ تو فقت اتنا کہ چلو خیر




کیا مل گئی تمہیں تُمھار_ی منز_ل !!!!
جس کے_لیے تم نے میر_ی قُربا_نی دی




راتوں کی سیا_ہی کو یُو_ں اشکُو_ں سے دُھویا ہم_نے 
چہر_ے نے گواہی دی صبح کے____اُجالے____میں






بہت ہی دور تک چلنا_____مگر پھر بھی وہیں ر_ہنا
مجھے تم سے ہی تم تک کے دائرے ا_چھے لگتے ہیں




فقیرِ عشق ہو_ں اِک در سے لگا بیٹھا ہو_ں
بھیکا_ری ہوتا تو در در پے پڑ_ا ملتا میں




اِک وہ ظا_لم جو دل میں رہ کر بھی میر_ا نہ بن سکا
اور د_ل وہ کا_فر جو مجھ میں رہ کر بھی اُ_س کا ہوگیا





جب رُوح میں اُُ_تر جاتا ہے بے پنا-ہ عشق کا سمند_ر
لو_گ زندہ تو ر_ہتے ہیں مگر کسی اور کے اند_ر





میں اسے بھو_لنے کا سو_چوں تو
دھڑ_کنے احتجاج کر_تی ہیں




غضب کی دُوپ ہے تنہائیوں کے جنگل میں
شجر بہت تھے ، مگر ساۓ دار کوئی نہ تھا





ہم دونوں بے انتہا محبت کرتے تھے
میں اس سے اور وہ کسی اور سے

 


سمجھتے تھے عشق معاملہ دل کا ہوگا
سلجھاتے سلجھاتے معاملہ روح تک پھچ گیا



یہ تقاضا اے عشق ہے یہ میری آکھ کی مستی 
کھولو تو دیدار تمہارا بند کرو تو تصبر تمہارا




عشق ہو اور درد نہ میلے وہ صاحب 
طوفان سے کہتے ہو خاموشی سے تل جا




سجا یہ ہے کی بنظر زمین ہو میں اور
ظلم یہ ہے کی بارشوں سے عشق ہو گیا ہے






یار میں بات ہی کچھ ایسی تھی اگر 
دل نہی دیتا تو جان چلی جاتی



میرے عشق کو کچھ اس طرح آزمایا 
ہمنے جان دے دی تب یقین پایا




محبت اگر دل سے کی جائے تو 
ایک طرفہ عشق بھی سکون دیتا ہے



سچے عشق کی بس ایک ہی علامت ہے کی
اُسکی بعد کیسی اور سے محبت نہ ہو



دیدار اے یار کی ایک جلحک پوری کائنات سے الگ
کوئی ہمس پوچھے تو سہی دیبانگی کیا چیز ہوتی ہے




جثبات کہتے ہیں زندگی کہموشی سے بسر ہو جائے
پر عشق کی ضد ہے کی دنیا کو خبر ہو جائے




کسی کو طلب حرو کی کوئی ہے طلب کا قصور
مجھے تو دیدار سے مطلب روک اے یار سے مطلب





عشق کا بیمار تو بڑا خوش نصیب ہے غالب
کہ عشق تو حقیقت میں لاعلاج ہی اچھا ہے





جب ادھوری محبت بھی سکون دینے لگے تو
سمجھ لینا کی عشق مکمل ہو گیا ہے




مجھ جیسا اس جہاں میں کوئی ناداں میں نہ ہوگا
کر کے عشق جو کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو گا




طبیب نے کہا عشق نہ کر تو دیوانہ ہو جائے گا
میں نے کہا ایک بار میرے یار سے مل تجھے بھی عشق ہو جائے گا






سستا سا بتا دو کوئی علاج عشق کا
ایک غریب عشق کر بیٹھا ہے آج کے دور میں




ایک تصور ہے جو آنکھوں میں بسا رہتا ہے
ایک خیال ہے جو کبھی تنہا نہیں ہونے دیتا



نہ جانے کیسا سمندر ہے عشق کا جسم
کسی کو دیکھا نہیں ڈوب کے ابھرتے ہوئے




گھر لئے جو آنکھوں میں وہ محض خواب نکلے
ٹوٹ کر جو چھپ گئے وہ زخم لیلاز نکلے




دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے سونے بھی نہ دیا
جب جب چلی عشق کی ہوا تُجھے یاد کیا




دیکھا جو عشق آنکھوں میں تو کہنے لگا حکیم
افسوس کہ تم علاج کے قابل بھی نہ رہے





واہ رے عشق تیرا کیا کہنا
جو تجھے جان لے تو اسی کی جان لے






مریضان اے عشق ہو درد اے دوا جان لو
نہ پوچھو کوئی دوا سے بہتر تو دیدار اے یار مانگ لو





عشق کو چھپائے کوئی لاکھ چُھپ نہی سکتا
یہ وہ افسانہ ہے جو بے کہے مشہور ہوتا ہے





عشق لکھنے کے لیے عاشق ہونا بہت ضروری ہے
ظاہر کا سوات بنا پی کوئی کیسے بتائے گا




100+ poetry about life urdu Read more

50+ dard bhari shayari Urdu Read more

Ghalib poetry in urdu Read more


Thank you



Post a comment

0 Comments