100+ best poetry about life in urdu

 poetry about life in urdu



poetry about life in urdu
poetry about life in urdu





ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت غالب
دل کے خوش رکھنے کو یہ خیال اچھا ہے



تیرے بنا زندگی سے کوئی شکوہ تو نہیں
تیرے بنا زندگی بھی لیکن زندگی تو نہیں



کیوں درے زندگی میں کیا ہوگا
کچھ نہ ہوگا تو تجربہ ہوگا


کبھی میں اپنے ہونٹوں کی لکیروں سے نہیں الجھا
مجھے معلوم ہے قسمت کا لکھا بھی بدلتا ہی




ایک نام کیا لکھا تیرا ساحل کی ریت پہ
پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی



کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمیں تو کہیں آسماں نہیں ملتا


تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے میں



کس کام کی رہی یہ دکھاوے کی زندگی
معدے کی کسی سے گزارش کسی کے ساتھ



یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آ
نادان پھر وہ جي سے بھلایا نے جئے گا



عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل بوجھ اٹھا نہیں سکتا



خودی کو کر بلند اتنا کی ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے



وقت نے کیا کیا حسین ستم
تم رہے نہ تم ہم رہے نہ رہے


Famous urdu poetry


الفت نے تیری ہم کو رکھا نہ کہیں کا
دریا کا نہ جنگل کا سماء کا نہ زمین کا



ہو ملاقات صفائی سے 
اور صفائی نہیں تو کیا ہے
اللہ اللہ رے یوں بٹو کا غرور
یہ خدائی نہیں تو پھر کیا ہے



میں سسکتا رہ گیا اور مر گئے 
فرہاد اؤ کیس کیا اُنہیں دونوں 
کے حصے میں قضا تھی میں نہ تھا



کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل اے داغدار میں 



کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں



تم نے کیا نا یاد کبھی ہمیں بھول کر
ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا


اوروں کے بل پہ بل نہ کر اتنا نہ چل نکل 
بل ہے تو بلکہ بل پے تو کچھ اپنے بل کے چل



دولت دنیا نہیں جائے گی تیرے ساتھ ہر گز
بات تیرے سب یہی اے بے خبر بڑھ جائے گی 



اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل
دنیا ہے چل چلب کا  راستہ سمجھتی کے چل



یوں آنسوؤں کے ساتھ ہم نے پیا کھونے دل
جیسے ملک پتے ہے پانی سراب میں



چھوٹی چھوٹی باتیں کرکر بڑے کہاں ہو جاؤ گے
پتلی گلیوں سے نکلوں تو سڑک پر آؤ گے



اپنی اس عادت پے ہی ایک روز مارے جائیں گے
کوئی در کھلے نہ کھلے ہم پکارے جائیں گے 



تیری نفرتوں کو پیار کی خوشبو بنا دیتا
میرے بس میں اگر ہوتا تجھے اردو سکھا دیتا




دھوپ کے ایک ہی موسم نے جنہیں توڑ دیا
اتنے نازک بھی یہ رشتے نہ بنائے ہوتے



خود کو منوانے کا مجھ کو بھی ہنر آتا ہے
میں وہ قطرہ ہوں سمندر میرے گھر آتا ہے



یہ سوچ کر کوئی عہدِ وفا کرو ہم سے
ہمیں ایک ب بعدِ پہ عمر گزار دیتے ہیں


Deep poetry in urdu



دُکھ اپنا اگر ہمکو بتانا نہی آتا
تمکو بھی اندازہ لگانا نہی آتا



آسماں اتنی بلندی پے جو اترتا ہے
بھول جاتا ہے زمی سے ہی نظر آتا ہیں



وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقہ سے
میں عتبار نہ کرتا اور کیا کرتا



ہیں وہی بات یو بھی اور یو بھی
تم ستم یہ کرم کی بات کرو



اُترے تھے کبھی فیض وہ آئینہ-ے-دل میں 
عالم ہے وہی آج بھی ہرانے-ے-دل-میں 




وہ بات سارے فسانے میں جیسکا ذکر نہ تھا
وہ بات انکو بہت نہ غبارہ گزری



دل میں اب یو تیرے بھول ہوئے گم آتے ہیں
جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں



ابتو جو کوی پوچھے تو اُس سے کیا سحر-ے-چالت کرے
دل ٹہرے تو درد سنائے درد تھامے تو بات کرے




ہم مصفر یہی مصروفِ سفر جائینگی
بینش ہو گئے جب سحر تو گھر جاؤگے



اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
تمسے دل لگا کے تو دیکھ لیا



تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہنے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں



ایک فرصت اے گنگا ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہے ہمنے حوصلے پربر دیگر کے 


Poetry in urdu 2 lines


کب ٹہرے گا در اے دل کب رات بسر ہوگی 
سینٹ تھے وہ آئینگے تو سحر ہوگی



ہر سادہ پر لگے ہے کام یہاں
دل سنبھالے راہوں زباں کی طرح



ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہے
جو اب بھی تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں



کتنی قاتل ہے یہ آرزو زندگی کی
مر جاتے ہے کسی پر لوگ جینے کے لیے



کبھی فرصت ملے تو دیکھ لینا ایک بار
کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہی



وہ بلندیاں بھی کس کام کی جناب
انسان چڑے اور انسانیت اتر جائے




آج بادلوں نے پھر سجس کی 
جہاں میرا گھر تھا وہی بارش کی
اگر فلک کو ضد ہے بجلیاں گرانے کی
تو ہمیں بھی ضد ہے وہیں پر آشیانہ بسانے کے



دور سے ہی بس دریا دریا لگتا ہے
ڈوب کے دیکھو کتنا پیاسا لگتا ہے



غم اور ہوتا صنم کے گھر آتے نہ وہ وسیم
اچھا ہے میرے حال کی ان کو خبر نہیں 



شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں
اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں


مجھے پڑتا کوئی تو کیسے پڑتا
میرے چہرے پہ تم لکھے ہوئے تھے



ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے



ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں بیمار کا حال اچھا ہے



عشق پر زور نہیں یہ وہ آتش غالب
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے


Ghalib poetry in urdu



یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
عدو کے ہو لیے جب تم تو ہمارے انتہا کیوں



ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش کرنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے 



کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب 
شرم تم کو مگر آتی نہیں



نہ تھا کچھ تو خدا تھا
 نہ ہوتا کچھ تو خدا ہوتا



میں نادان تھا جو وفا کی تلاش کرتا رہا غالب
یہ نہ سوچا تھا کہ ایک دن اپنی ساس بھی بے وفا ہو جائیگی



ہوئی مدت کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر ایک بات پہ کہنا یوں ہوتا تو کیا ہوتا



توڑا کچھ اس ادا سے اس نے تعلق غالب
کی ساری عمر اپنا قصور ڈھونڈتے رہے



محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے



رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں کایال
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے




خدا کے واسطے پردہ نہ رخسار سے اٹھا ظلم
کہیں ایسا نہ ہو جہاں بھی نہیں صنم کافر نکلے



کچھ اندر اندر جلا دیتی ہے وہ شکایت
جو بیاں نہیں ہوتی



زخم کہتے ہیں دل کا گہنا ہے
درد دل کا لباس ہے



میری دشمنی تو صرف اندھیرے سے ہے
ہوا تو بے بجا ہیں میرے خلاف ہے



کون کہتا ہے ہم جھوٹ نہیں بولتے
ایک بار خیریت تو پوچھ کے دیکھو



کچھ باتیں تب تک سمجھ نہیں آتی
جب تک خود پے نہ گزرے



شاعر بننا بہت آسان ہے
بس ایک ادھوری محبت کی مکمل ڈگری چاہیے



تیرے جانے سے کچھ بدلا نہیں
رات بھی آئیں اور چاند بھی تھا مگر نیند نہیں آئی



شور کی تو عمر ہوتی ہے
خاموشی تو صدا باہر ہوتی ہے



وہ بات بات پہ دیتا ہے پرندوں کی مثال
صاف صاف کیوں نہیں کہتا میرا شہر چھوڑ دو



اب اسے روز نہ سوچوں تو بدلتا ہے فراز
ایک عرصہ گزرا ہے اس کی محبت کا نشہ کیا ہوا



ایک نفرت ہی نہی دنیا میں درد کا سبب
محبت بھی سکو بلو کو بڑی تکلیف دیتی ہے


romantic poetry in urdu


منہ کی تم گفتگو کے فن میں ماہر ہو فراز
وفا کے لفظ میں اٹکو تو ہمیں یاد کر لینا



اپنے ہی جوتے ہے جو دل پے بار کرتے ہے فراز 
برنا جرو کو کیا کبھر کی دل کی جگہ کون سی ہے




توڑ دیا تصبي کو اس خیال سے فراز
کیا گن گن کے نام لینا اُسکی جو بےحساب دیتا ہے



اس شکش سے بس اتنا سا تعلّق ہے فراز
وہ پریش ہو تو نیند ہمیں نہی آتی



برباد کرنے کے اور بھی راستے تھے فراز 
نہ جانے اُنہیں محبّت کا ہی خیال کیوں آیا




تو بھی تو آئینی کی طرح بیوفا نکلا فراز
جو سامنے آیا اشی کا ہو گا



بچہ نہ سکا خُدا بھی محبت کے تقاضوں سے فراز
ایک محبوب کے لیے سارا جہ بنا دیا



یہ معصومیت کا کون سا طریقہ ہے فراز
پر کرکے کہتے ہو آزاد ہو تم 


کہانیاں ہی شی سب مبلغِ ہے سہی
اگر ہے خواب ہے تو تعبیر کرکے دیکھتے ہے



دل میں خدا کا ہونا لازم ہے اقبال
سجدہ میں پڑے رہنے سے جنت نہی ملتی



کون یہ کہتا ہے خدا نظر نہیں آتا
وہی تو نظر آتا ہے جب کچھ نظر نہی آتا




رکھے ہے ہمنے احرام میں لپٹے ہوئے ابلیس
ہمنے کی بار میں کہنے میں خدا دیکھا ہے





ٹھکانہ قبر ہے کچھ یوں عبادت کر اقبال 
روایت ہے کسی کے گھر خالی ہاتھ نہی جاتے 




کتنی عجیب ہے گنہاؤ کی جستجو اقبال 
نماز بھی جلدی میں پڑتا ہے پھر سے گنگا کرنے کے لئے



مجھے روکیگا کیا تو اے نہ خدا گرک ہونے سے
کی جنکو ڈوبنے ہے ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں



منہ کی تیری دید کے قابل نہیں ہو میں 
تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ



نہ کلام یاد آتا ہے نہ دل لگتا ہی نمازوں میں اقبال 
کافر بنا دیا ہی لوگو کو دو دن کی محبت نے



ملاقاتیں عروج پے یہی تو جبابائے ازاں تک نہ دیا اقبال 
صنم جو روٹھا تو مزین بن بیٹھے




دل کی اماروٹو میں کہیں بندگی نہی
پتھروں کی مسجدوں میں خدا ڈھونڈ یہ ہے



ڈھونڈتا پھرتا ہو میں اپنے آپ کو اقبال 
آپ ہی گویا مشافر آپ ہی منزل

heart touching poetry in urdu



اللہ کو بھول گئے لوگ فکری روزی میں
تلاش رزق کی ہے رزق کا خیال نہی




ضمیر جاگے ہی جاتا ہے اگر زندہ ہو اقبال
کابھی گنگا سے پہلے کبھی گنگا کے بعد




دنیا کی محفلوں سے گھبرا گیا ہو یا رب
کیا لفٹ انجمن جب دل ہی بجھ گیا ہو



اپنے مطلب کے الابا کون کسکو پوچھتا ہے اقبال 
سحر جب سوکھ جائے تو پرندے بھی سبیرا نہی کرتے



حیران ہو میں اپنی حسرتوں پے اقبال
سب کچھ مانگ لیا خدا سے خدا کو چھوڑ کے


Post a comment

0 Comments